منگلورو:19/جولائی (ایس اؤنیوز) مختلف واقعات اور وارداتوں کے ذریعے ہلا ک ہونے والے 23ہندوؤں کی فہرست کو رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے نے مرکزی وزیر داخلہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تمام کا قتل مسلمانوں کے ذریعے ہوا ہے اور اس کے پیچھے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کا ہاتھ ہونے کا جھوٹا الزام عائد کیا ہے ۔ اس معاملے کو لے کر ہم رکن پارلیمان کے خلاف ہتک عزت مقدمہ درج کریں گے، اس بات کی جانکاری ایس ڈی پی آئی دکشن کنڑا ضلع کمیٹی نے دی ہے۔
پارٹی کے ضلعی دفتر میں بدھ کو منعقدہ پریس کانفرنس میں ایس ڈی پی آئی کے ضلع سکریٹری اقبال بیلارے نے بتایا کہ ایک ذمہ دار عہدے پر فائز ایم پی شوبھا کرندلاجے ریاستی ترقی کے لئے کوشاں رہنے کے بجائے حقیر سیاست میں شریک ہیں، قاتلانہ حملہ کا شکار ہوکر زندہ رہنے والے موڈبیدری کے اشوک پجاری کو بھی قاتلوں میں شامل کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے،اسی طرح کارتیک راج قتل معاملے میں مسلمانوں کو ذمہ دار بتایا ہے،جو فہرست رکن پارلیمان نے مرکزی وزیر کو سونپی ہے وہ جھوٹ پر مبنی ہے، ان کامنشاء آئندہ ہونے والے ودھان سبھا انتخابات میں بی جے پی کے لئے ووٹ بٹورنا ہے۔ رکن پارلیمان کی غلطی کی وجہ سے ضلع میں بد امنی کا ماحول پید اہونے کا خدشہ ہے ،پارٹی ذمہ داران نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے ریاستی حکومت شوبھا کرندلاجے کے خلاف سوموٹو کیس درج کرے ۔ اس کے علاوہ شوبھا کرندلاجے عوامی سطح پر معافی مانگنے کے علاوہ اپنے رکن پارلیمان کے عہدے سے مستعفی ہوجائے
ایس ڈی پی آئی کے ذمہ داران نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایم پی شوبھا کرندلاجے کی طرف سے سونپی گئی مقتولوں کی فہرست میں قریب 19-18لوگ خود کشی ، ذاتی رنجش، آپسی دشمنی ، گینگ وار جیسی وارداتوں کے ذریعے ہلاک ہوئے ہیں، ان سب کے لئے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کو ذمہ دار بتانا ناقابل معافی ہے ، اس سلسلے میں ہم لوگ بہت جلد قانونی صلاح کاروں سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد ہتک عزت کا معاملہ درج کریں گے۔ پریس کانفرنس میں ایس ڈی پی آئی کے ریاستی سکریٹری اکرم حسن، ریاستی کمیٹی ممبر جلیل کرشنا پور، ضلع سکریٹری اشرف منچی موجود تھے۔